Saturday, April 25, 2026

Fact Check

کیاواقعی میں اجیت پوار کو ملی بدعنوانی معاملے میں کلین چٹ؟ پڑھیئے ہماری تحقیق

Written By Mohammed Zakariya
Nov 27, 2019
image

دعویٰ

اجیت پوارکو اےسی بی نے سترہزار کروڑ کی ایری گیشن(آپاشی) گھوٹالا معاملے میں کلین چٹ دے دیا ہے۔یہ مودی کے بھارت کی سچائی ہے۔اگر آپ مودی کے خلاف ہیں تو بدعنوان ہیں۔لیکن جیسے ہی بی جے پی کی حمایت کرتے ہیں تو آپ کے سبھی گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔

تصدیق

مہاراشٹرمیں حکومت بنانے کو لے کر سیاسی ہل چل مچی ہے۔اسی درمیان سوشل میڈا پر ایک چونکانے والا دعویٰ وائرل ہورہاہے۔دعوے کے مطابق مہاراشٹر کے نئے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کو محکمہ آب پاشی نے ستر ہزار کروڑ بدعنوانی معاملے میں کلین چٹ دے دیا ہے۔واضح رہے کہ حال ہی میں اجیت نے این سی پی سے بغاوت کر کے بی جے پی کے ساتھ مل کر سرکار بنائی ہے۔

دھرو راٹھی سمیت کئی صحافیوں نے بھی اس خبر کو خوب شیئر کیاہے۔حالانکہ دھرو راٹھی اپنے پوسٹ کو فیس بک سے ڈلیٹ کردیا ہے۔لیکن ان کے پوسٹ کا آرکائیو ورجن اس لنک پر جاکر دیکھا جاسکتاہے۔

دھرو راٹھی کے علاوہ دیگر لوگوں نے جو اس خبر کو شیئر کیا ہے وہ مندرجہ ذیل میں ایک کے بعد ایک  لنک پر کلک کرکت دیکھ سکتے ہیں۔

سردِسائی راج دیپ کا ٹویٹ

دی وائر پورٹل پر شائع خبر اور ٹویٹ کا آرکائیو لنک۔

روہنی سنگھ کی جانب سے کیا گیا ٹویٹ

فائی دسوزا کا ٹویٹ

ان سارے ٹویٹس اور خبروں کو پڑھنے کے بعد ہم نے اپنی تحقیق شروع کی۔پھر خیال آیا کہ آیا اتنے لوگ ٹویٹس کئے ہیں تو کچھ نہ کچھ سچائی ہوگی۔پھر ہم نے گوگل کیورڈ سرچ کیا۔جہاں ہمیں آج تک کے ویب سائٹ پر شائع دوہزار بارہ کی ایک خبر ملی۔ خبر کے مطابق انیس نن٘انوے سے دوہزار نو تک اجیت پوار وزیربرائے محکمہ آب پاشی تھے۔ اس دوران تقریباً ستر ہزار کروڑ خرچ ہواتھا۔محکمہ پر الزام لگایا گیاتھا کہ خرچ کے مطابق کام نہیں ہوا۔جوکہ پوری جانکاری اس لنک پر کلک کرکے حاصل کی جاسکی ہے۔

آج تک پر شائع خبر کو پڑھنے کے بعد ہم نے یہ جانکاری حاصل کرنا چاہا کہ سچ میں مرکزی حکومت نے اس معاملے میں اجیت پوارکو کلین چٹ دی ہے؟اس دوران ہمیں انڈیا ٹوڈے پر شائع ایک خبرملی۔جس کے مطابق مہاراشٹر اینٹی کرپشن بیورو(اے سی بی) نے یہ بتایا ہے کہ تین ہزار معاملے میں سے نو معاملے میں ایجنسی نے اجیت کو شامل نہیں پایا۔

ان تمام خبرو سے ملی جانکاری کے بیچ ہمیں اے این آئی کا ایک ٹویٹ ملا۔جہاں واضح طورپر لکھا ہے کہ اے سی بی کی رپورٹ سوشل میڈیا پر وائرل کیا جارہاہےوہ غلط ہے۔

اےاین آئی کے علاوہ این ڈی ٹی وی پرشائع ایک خبر ملی۔وہاں بھی یہی باتیں مختلف انداز میں لکھا ہے۔جسے آپ یہاں کلک کرے کے پوری معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔

تحقیقات کے آخری مرحلے میں مہاراشٹر اینٹی کرپشن  بیورو کے ڈی جی کا بھی بیان ملا۔جو مندرجہ ذیل میں سناجاسکتا ہے۔

نیوز چیکر کی تحقیق میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وائرل دعویٰ گمراہ کن ہے۔جسے سوشل میڈیا پر غلط انداز میں پھیلایا گیا ہے۔

 

گوگل سرچ

ٹویٹر سرچ

نتائج:گمراہ کن

 

نوٹ:کسی بھی مشتبہ برکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویز کے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے ای میل پر ارسال کریںcheckthis@newschecker.in

image
اگر آپ کسی دعوے کی جانچ کرنا چاہتے ہیں، رائے دینا چاہتے ہیں یا شکایت درج کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں واٹس ایپ کریں +91-9999499044 یا ہمیں ای میل کریں checkthis@newschecker.in​. آپ بھی ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں اور فارم بھر سکتے ہیں۔
Newchecker footer logo
ifcn
fcp
fcn
fl
About Us

Newchecker.in is an independent fact-checking initiative of NC Media Networks Pvt. Ltd. We welcome our readers to send us claims to fact check. If you believe a story or statement deserves a fact check, or an error has been made with a published fact check

Contact Us: checkthis@newschecker.in

14,935

Fact checks done

FOLLOW US
imageimageimageimageimageimageimage