Newchecker.in is an independent fact-checking initiative of NC Media Networks Pvt. Ltd. We welcome our readers to send us claims to fact check. If you believe a story or statement deserves a fact check, or an error has been made with a published fact check
Contact Us: checkthis@newschecker.in
Fact Check
سوشل میڈیا پر اس ہفتے اترپردیش کے مختلف علاقے میں ہوئے مولاناؤں کے قتل کی واردات سے منسوب کرکے ایک ویڈیو شیئر کی گئی، جسے مرادآباد میں ہوئے مسجد کے امام مولانا اکرم کی لاش کا بتایا گیا، اس کے علاوہ ریاسی دہشت گردانہ حملے میں دس فوجی جوانوں کی اموات، مغربی بنگال میں خاتون کے ساتھ فوجی جوان کی جانب سے ہراساں کئے جانے کا بتاکر ایک تصویر شیئر کی گئی۔ اس کے علاوہ دیگر موضوع سے متعلق وائرل پوسٹ کی تحقیقاتی رپورٹ درج ذیل میں پڑھیں۔

اس ہفتے سوشل میڈیا پر صارفین ایک ویڈیو خوب شیئر کر رہے ہیں، جس میں زمین پر ایک لاش دکھائی دے رہی ہے اور اس کے ارد گرد پولس و دیگر لوگ بھی نظر آرہے ہیں۔ دعویٰ کیا گیا کہ یہ ویڈیو اترپریش کے مرادآباد کی ہے، جہاں بڑی مسجد کے امام مولانا اکرم کو ہندو شرپسندوں نے گولی مارکر قتل کردیا۔ ہم نے جب اس کی تحقیقات کی تو پتا چلا کہ ویڈیو اترپردیش کے شاملی کی ہے، جہاں ایک بیٹے ہی نے اپنے والد کو قتل کردیا تھا، اس معاملے میں کوئی فرقہ وارانہ زاویہ نہیں ہے۔ یہاں پڑھیں پوری تحقیقات۔

سوشل میڈیا پر جموں کشمیر کے ریاسی میں ہوئے حملے کے بعد ایک تصویر کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ ریاسی دہشت گردانہ حملے میں فوجی بس میں سوار دس(10) بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے۔ ہم نے جب اس کی تحقیقات کی تو پتا چلا کہ ریاسی میں دہشت گردوں نے ایک مسافر بس پر فائرنگ کی تھی، جس کے سبب کم از کم نو شہری ہلاک ہو گئے۔ اس حملے میں مسلح افواج کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ پوری تحقیقات یہاں پڑھیں۔

ایکس ہینڈل پر ایک تصویر کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ یہ تصویر مغربی بنگال میں بھارتی بی ایس ایف جوان کے ہاتھوں خاتون کو جنسی ہراساں کئے جانے کی ہے۔ جبکہ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ تصویر پرانی اور منی پور کے ایک گروسری اسٹور کی ہے، جہاں ایک بی ایس جوان نے خاتون کو ہراساں کیا تھا، جس کی تصویر بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی۔ مکمل تحقیقات پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا گیا کہ اس بار لوک سبھا انتخابات کے بعد پارلیمنٹ میں 110 مسلمان پارلیمنٹ کا انتخاب کیا گیا ہے جوکہ کل تعداد کا 20 فیصد ہوتا ہے۔ تحقیقات سے پتا چلا کہ اس بار لوک سبھا میں مسلمان صرف 4.42 فیصد ہیں۔ یہاں پڑھیں پوری تحقیقات۔
نوٹ: کسی بھی مشتبہ خبر کی تحقیق، ترمیم یا دیگر تجاویز کے لئے ہمیں واہٹس ایپ نمبر 9999499044 پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ہمارے واہٹس ایپ چینل کو بھی فالو کریں۔
Mohammed Zakariya
June 29, 2024
Mohammed Zakariya
June 22, 2024
Mohammed Zakariya
June 8, 2024