Wednesday, August 26, 2026

Uncategorized @ur

پولس کب کیا کر سکتی ہے اورکس موقع پر احتجاجیوں پر چلا سکتی ہے لاٹھی؟پڑھیئے ہمارا رپورٹ

Written By Mohammed Zakariya
Dec 20, 2019
image

 سی اے اے اور این آر سی کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرہ جاری ہے۔ملک کی عوام راجدھانی دہلی سمیت کئی شہروں میں احتجاج کررہی ہیں۔لوگ شہریت ترمیمی بل کو آئین کے خلاف بتا رہے ہیں۔وہیں وزیرداخلہ امت شاہ اس معاملے کو لے کر ایک میٹنگ بھی بلائی ہے ۔جس میں اس تلعق سے بات چیت ہوگی۔

احجتاج اور تشدد کو روکنےکےلئے 144لگایا جاسکتا ہے؟

حالات اگرکشیدہ ہونے لگے تو سب سے پہلے دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کی جاتی ہے۔اگر حالات شہری علاقہ میں کشیدہ ہوتو پولس کمشنر اس کی اجازت دیتا ہےاور اگر یہ دیہی علاقہ میں پیش آئے تو ضلع افسر اسے نافذ کرنے کا حکم دیتاہے۔ ۱۴۴کے ساتھ دفعہ ۸الگ سے لگایا جاتا ہے۔آپ کو بتادیں کہ دفعہ ۱۴۴اوردفعہ ۸نافذ ہونے کے بعد کسی بھی جگہ پانچ سے زائد لوگ ایک ساتھ کھڑا نہیں ہوسکتا۔اگر پانچ لوگ ایک ساتھ کھڑے ہوئے تو غیر قانی مانا جائےگا۔

 

پولس کب گرفتار کر سکتی ہے؟

دفعہ ایک سو چولیس لگائے جانے کے بعد بھی لوگ اگر احتجاج کرتے ہیں تو جرمانہ سمیت دفعہ ۱۲۹،۱۳۰اور۱۳۱ کا استعمال کر کے بھیڑ کو منتشر کیاجاتاہے۔

جرمانہ سمیت ۱۹۷۳کی دفعہ ایک سو انتیس کے تحت ضلع رونیو آفیسر فیصلہ دے سکتا ہے۔اتنا ہی نہیں اگر تشدد بھڑکتا ہے تو پولیس محکمہ کو ضلع ریونیو آفیسر موقع پر موجود رہنے کے لئے اپیل کر ےگی۔اس کے باوجود اگر ضلع ریونیو آفیسر جائے واردات سے چلے جاتے ہیں یا موقع پر موجود نہیں ہوتے تو اس وقت سب انسپیکٹر کے رینک کا پولس افسریہ فیصلہ لے سکتاہے۔اسی کے پیش نظر احتجاجیوں کو وہاں سے ہٹائے گا یا پھر اسے گرفتار کر سکتاہے۔

پولس اپنے طاقت کا کب استعمال کرسکتی ہے؟

مندرجہ بالا میں شامل دفعات کے باوجود لوگ مظاہرہ جاری رکھتے ہیں تو دفعہ ایک سو اکتیس کے تحت مسلح افواج کو ضلع مجسٹریٹ کے حکم پرعمل کرنا ہوگا۔اگر ضلع افسران سے بات چیت نہیں ہوپارہی ہے تو مسلح افواج اپنے بٹالین کے افسر کے حکم کا پالن کرسکتاہے۔

کیا یونیورسٹی یا کالج میں بغیر اجازت پولس داخل ہو سکتی ہے؟

اب سوال  یہ پیدا ہوتا ہے کہ پولس بغیر اجازت یونیورسٹی یا کالج میں داخل ہوسکتی ہے؟ اس سوال کا جواب انڈیا ٹوڈے میں شائع ایک خبر کے مطابق سپریم کورٹ کے ایک وکیل نے واضح کیاہے کہ قانون کے مطابق پولس ہر احتجاج کرہے لوگوں کو روکنے کے لئے کہیں بھی داخل ہو  سکتی ہے۔بقیہ جانکاری مندرجہ ذیل میں موجود ہے۔

 

نوٹ:کسی بھی مشتبہ خبرکی تحقیق،ترمیم یا دیگرتجاویزکے لئے ہمیں نیچے دئیے گئے واہٹس ایپ نمبر پر آپ اپنی رائے ارسال کر سکتےہیں۔۔

WhatsApp -:999949904

image
اگر آپ کسی دعوے کی جانچ کرنا چاہتے ہیں، رائے دینا چاہتے ہیں یا شکایت درج کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں واٹس ایپ کریں +91-9999499044 یا ہمیں ای میل کریں checkthis@newschecker.in​. آپ بھی ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں اور فارم بھر سکتے ہیں۔
Newchecker footer logo
ifcn
fcp
fcn
fl
About Us

Newchecker.in is an independent fact-checking initiative of NC Media Networks Pvt. Ltd. We welcome our readers to send us claims to fact check. If you believe a story or statement deserves a fact check, or an error has been made with a published fact check

Contact Us: checkthis@newschecker.in

14,935

Fact checks done

FOLLOW US
imageimageimageimageimageimageimage